حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (مانو) کے وائس چانسلر پروفیسر سید عین الحسن نے آج مذکورہ یونیورسٹی کے شعبۂ سیاسیات اور شعبۂ اسلامیات کے زیرِ اہتمام منعقدہ سہ روزہ قومی ورکشاپ کی افتتاحی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مثالی فکر دراصل ہمارے خیالات کی تکمیل اور شعور و آگہی کا نام ہے، جو انسان کو اپنی اصلاح اور خامیوں کی درستی کا موقع فراہم کرتی ہے۔
یہ ورکشاپ 7 نومبر تک جاری رہے گا۔
مانو نے اس ورکشاپ کے انعقاد کے لیے بلین کنیکٹ پرائیویٹ لمیٹڈ کے ساتھ اشتراک کیا ہے۔ ورکشاپ کا موضوع ’’مسلم نوجوانوں میں آئینی شعور، جمہوری شہریت، جذبۂ تکثیریت اور سماجی استقامت کا فروغ‘‘ ہے۔
پروفیسر سید عین الحسن نے اپنے خطاب میں آئیڈیلزم (مثالی فکر) کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہی فکر معاشرے میں انصاف اور امن کے قیام کی راہ ہموار کرتی ہے اور بالآخر ایک بہتر اور مثالی سماج کی تشکیل کا ذریعہ بنتی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مختلف تہذیبوں کے درمیان مکالمے کا تسلسل برقرار رہنا چاہیے۔ ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیے ضروری ہے کہ افراد ایک دوسرے کے خیالات کا تبادلہ کریں، سوال و جواب کا سلسلہ جاری رکھیں اور اختلافِ رائے کو مثبت انداز میں قبول کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ معاشرے میں فکری پختگی اور باہمی اعتماد کے فروغ کے لیے اپنی غلطیوں کا اعتراف اور ان کی اصلاح کے لیے آمادگی بھی ناگزیر ہے۔
افتتاحی اجلاس کا آغاز شعبۂ اسلامیات کے صدر پروفیسر محمد حبیب کے استقبالیہ کلمات سے ہوا۔ انہوں نے شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے ورکشاپ کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔
اس موقع پر شعبۂ سیاسیات کے صدر پروفیسر ناگیشور راؤ نے ورکشاپ کا تعارف پیش کرتے ہوئے اس کے موضوع کی اہمیت اور افادیت پر اظہارِ خیال کیا۔

آخر میں ورکشاپ کے کنوینر اور شعبۂ سیاسیات کے پروفیسر افروز عالم نے اظہارِ تشکر کیا۔










آپ کا تبصرہ